مری بات بد یا اگر خوب ہے
نظر میں تو مجھ سب تے محبوب ہے
انبیا ۔ ۔ ۔ وہاں کے نیک و بد سے آگاہ فرمایا.
(۱۸۸۷، خیابان آفرینش ،۳ٖٖ)
زوجۂ منکوحہ کو اس کے فعل بد کا مزہ چکھائیے.
(۱۹۰۱، الف لیلہ ، سرشار، ۳۶)
واسطے تیرے زمانے میں میں کہلایا بد
خوب اس بات سے واقف ہے خداوند احد
ہر مہینے انھیں ایک بد جن دکھائی دیتا تھا .
(۱۹۶۵، شاخ زریں ، ۱: ۲۹۵)
خط کے آتے سب اس سے ہوگئے بد
صرف یہ خیر خواہ باقی ہے
بد ہیں یہ اسلاف سے کد ہے انھیں اخلاف سے
وضع کا آئین نظروں میں نہ قدروں کا بھرم
[ ف ]
