امام غریب ایک کرسی آبنوس پر بیٹھ . . . ایک خطبۂ حمد الہٰی نعت رسالت پناہی ادا فرائے
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۱۳۷)
جزیرہ ابونی . . . جہاں آبنوس کی لکڑی پیدا ہوتی ہے میں اوسی بادشاہ کی بیٹی ہوں.
( ۱۸۴۲ ، الف لیلہ ، عبدالکریم ، ۱ : ۵۸ )
یہ معلوم ہوتا تھا کہ آبنوس میں لعل و یا قوت جڑے ہوئے ہیں.
(۱۹۳۱ ، مکتوبات عبدالحق ، ۳۱۲)