جنے ثابت قدم ہے عشق میانے
دھرے گا پیم اس کے سیس پرتاج
رکھا جائے یاقوت کا سر پر تاج
نہ پونچھے ہے سارے جہاں کا خراج
فقیر اس کی گلی کا ہوں میں عجب کیا ہے
جو تاج شاہ ہو کا سہ میری گدائی کا
شہر ستانی کے بعد علم الکلام کا تج امام فخر الدین رازی کے سر پررکھا گیا
(۱۹۰۲، علم الکلام ، ۱ : ۶۸)
پچاس اراکین ، دام الحیات از جانب تاج سولہ ، بلحاظ اپنے عہدوں اور مرتبوں کے جو رئیسں یا اعلےٰ درجے کے جمع ہیں
(۱۸۸۸، حسن ستمبر ،۶۶)
اکثر قبائل جو تاج سا سانی کے طرف دار تھے انھیں درفش کاویانی کے نیچے جمع ہونے کا حکم دیا گیا تھا
(۱۹۰۰، ایام عرب ، ۲ : ۲۴۹)
مرغ اذان کہنے یہ ہے کہ تاج سر پر رکھے ہوے دیوار کھڑا ہے
(۱۸۱۹، اخوان الصفا ،۶۴)
جس مرغ کا تاج بڑا اور سیدھا اور کنگرہ دار اور لولکیاں زیادہ نیچے لٹکی ہوں اس کو بہنگم کہتے ہیں
(۱۸۸۳، صید گاہ شوکتی ، ۱۹۲)
دسیں ناریل کے پھل بوں ، زمرد مرتباناں جوں
ہور اس کے تاج کوں کہتا ہے پیالہ کردکھن سارا
شاخ یا تاج کو قطع کر دینے کا دستور بہ نسبت ہندوستان کے یورپ میں عام ہے
(۱۹۰۷، مصرف جنگلات ، ۲۰۰)