بولے بول اس شوم بیداد کوں
جو ویرانہ پکڑایا چھوڑ آباد کوں
وو شاہ فوج خوباں اس شہر میں جب آوے
آباد ہو مرا دارالسروا ہوئیگا
کتے ہیں گوہراں سوں حسن دستا
وو خط و خال کرتا منع دل آباد
کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
عام طور پر مسجدوں میں نہ آنے والے مسجدوں میں آنے لگیں گے اور مسجدیں زیادہ آباد رہنے لگیں گی.
(۱۹۲۳، احیاء ملت ، ۵)
خاک بھی سر پر ڈالنے کونہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
حضرت ابو موسیٰ اشعری آئے تو اسّی شخصوں کوے کر آئے اور مدینہ میں آباد ہوئے .
(۱۹۱۴، سیرۃ النبی ، ۲ : ۸۶)
سکی تج ناک کی پہلڑی کہ ہے یا قوت کا دانہ
کہ سب دانے بسر کع میں ہوا او دانے تھے آباد
الہیٰ پھر اسے آباد و شاد دیکھیں ہم
الہیٰ پھر اسے حسب مراد دیکھیں ہم
پھلولوگے پھلوگے ہیاں شاد اور وہاں آباد.
( ۱۹۱۷، شہنشاہ کا فیصلہ ،۲۳)
سٹیا امید کے تخماں زمیں میں
مرے سب تخم کوں قم کرنا آباد
سیر کی خوب پھرے پھول چنے شاد رہے
باغباں جاتے ہیں گلشن قراآباد رہے
پندہ بیگھ زمین لائق زراعت مع چاہ مسودہ لےکر آباد کرالو.
(۱۸۶۴، تحقیقات چشتی، ۴۸۱)
اف : رکھنا ، رہنا ، کرنا، ہونا.