میں دل کی خدمت گار ہوں ، دل منجے بیچے گا تو میں بے اختیار ہوں
(۱۶۳۵، سب رس ،۲۵۲)
خواہ اس کو بیچیں یا نہ بیچیں ، مگر قیمت اس کی میرے نزدیک اس قدر ہے
(۱۸۶۵، رسالہ علم فلاحت ، ۱۰۶)
اپنے کتاب خانے کو بیچا ، گھر اور کوٹھی کو رہن رکھا اور سفر کی تیاری کی
(۱۹۳۸، حالات سرسید ، ۳۶)