اس بیج کوں زرد آلو کی بیل ہوی.
(۱۴۲۱، بندہ نواز (شکار نامہ ، شہباز ، سکھر ، فروری ، ۶۳)
اغلب کہ اے عزیز وہ جنگل کی ہے جڑی
ہوتی ہے جس کی بیل ببولوں اپر پڑی
بعض جرائز میں ایسی بیلیں ہوتی ہیں جو درختوں پر لپٹی رہتی ہیں.
(۱۹۱۴، شبلی ، مقالات ، ۷ : ۵۲)
بیل کاٹے تھا کدارے کا گلا
وجد میں تھے بیل بیلا سرہلا
زخم غم بیل ہے اور داغ جفا بوٹا ہے
بر میں مجھ دل کے عجب جامۂ محمودی ہے
اس قدر رشک پری مائل مخموری ہے
بیل بھی ہے جو دوپٹے میں تو انگوری ہے
بیلیں ہوں یا ہوں بوٹیاں چبھتی ہیں کامدانیاں
چند دوپٹے پھاڑ لوں ، رکھی ہیں جامدانیاں
کہ جب اصل سیتی سیادت کی بیل
چل بن میں ہستی کے جب باند جھیل
اب ختم ہوتا ہے یہ خط پھولو پھلو سکھ سے رہو
بیلیں بڑھیں ، گودی بھرے بیٹا ہو پیدا چاند سا
لڑکی اور ککڑی کی بیل جلدی بڑھتی ہے.
(۱۸۸۸، فرہنگ آصفیہ ، ا : ۲۶۸)
بٹیرتھا کہ الامان اچھا ڈیڑھ بالشت کی بیل کا ، یہ اونچا جنور .
(۱۹۵۴، اپنی موج میں ، ۲۱)
بیل (پھول کا نام) .
(۱۴۳۴، فرہنگ بحر الفصائل بلخی (مقالات شیرانی ، ۲ : ۱۹)
کوئی بال گوندھے کوئی چیز رنگ
کوئی پھول گوندھے جوئی بیل سنگ