بازاں یک دن نبی راؤ
بیٹھے مسجد بھیتر آؤ
دن ازل تھے مرتضےٰ کو کیتے ہیں نائب تمن
ذوالفقار اب کافراں کو مار کر لیوو خراج
کہا ایک دن آپ حضرت نے قول
کہو کس کنگال کہتے ہو بول
دن سے کرو شہید شِہ خوش صفات کو
کیا بی بیوں کو لوٹنے جاؤ گے رات کو
ایک دن ہم نے پوچھا بابا شراب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے .
( ۱۹۸۶ ، اوکھے لوگ ، ۱۸۴ )
جب کہا میں نے کہ کچھ دن ہی سے آںا تو کہا
شام سے پہلے ہی آئی تری شامت ہو گی
کبھی الوان ہم کھاویں کبھی ٹوکے ملیں روکھے
کبھیں بھاجی کبھی پالا کبھی دن چار کے بھوکے
کئی دن میں یہ خط پڑتا رہا میں نے جواب بھی لکھا ... وہ میرے خط کا منتطر نہیں تھا .
( ۱۹۸۱ ، راجہ گدھا ، ۴۷۹ )
یو عید ہمن ساجے نصرت کے بجیں باجے
ہے جگ کے نبی راجے دن دینِ محمدؐ کا
بگڑا مزاج یار کا آنکھیں بدل گئیں
دن لطف کے گزر گئے اب کچھ مزا نہیں
پھر اسے احمد بشیر مل گیا ... وہ ان دنوں بالکل گرین یوتھ تھا .
( ۱۹۸۶ ، اوکھے لوگ ، ۳۰۳ )
خدا بچائے قیامت کے ہیں تمھارے دن
یہ پیاری جوانی یہ پیارے پیارے دن
مرنے کے دن نہیں اور جینے کی حسرت نہ رہی
رحم کر رحم کہ اب ضبط کی طاقت نہ رہی
لاش پر عبرت یہ کہتی ہے امیر
آئے تھے دنیا میں اس دن کے لیے
کب اس سے ہو گی ملاقات میں یہ پوچھوں ہوں
ذرا تو دیکھ منجّم مرے ستارے ، دن
دوہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوں
تم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں
اس داغ سے چین آئے ہمیں یہ نہیں ممکن
گرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دن
دن ایسے ، پہلی گرمی ، بچے کا ساتھ - خدا اپنا فضل رکھے .
( ۱۹۰۲ ، صبح زندگی ، ۶۰ )
دن ٹل گئے .
( ۱۸۰۸ ، دریائے لطافت ، ۱۰۲ )
سبھی جلتے تھے شمع و پروانہ
رات یہ دن تھا اہلِ مجلس پر
خاتمِ دستِ سلیماں میرے ہاتھ آئی ہے آج
پوچھتی ہے آنے کو وہ غیرتِ بلقیس دن
خدا خدا کر کے یہ دن ہوا ، خاندان میں بیٹے کی صورت دکھائی دی .
( ۱۹۰۸ ، صبح زندگی ، ۱۶۸ )
س
[ س : دن दिन् ]
