وہی ایک کرتا ہے بھو دھات بھیس
کدھی رات ہو وے کدھی ہووے دیس
دن بھر گدھے کے بھیس میں رہے اور رات بھر انسان کے.
( ۱۸۰۵ ، آرائش محفل ، افسوس ، ۳۱۳ )
اتنے ہی میں نازل ہوے دو پریم بھکاری
ارجن تھا اک اس بھیس میں اک کرشن مراری
ہر بولی میں بلکہ بھیس نیارا
یو بھیس ہے توں پریس نیارا ( کذا )
ولی عہد روس . . . وہاں کشمیری فقیر کے بھیس میں موجود تھا.
( ۱۸۸۴ ، تذکرۂ غوثیہ ، ۳۶ )
کون سے بھیس میں ہو کون گرو کے چیلے.
( ۱۸۸۸ ، فرہنگ آصفیہ ، ۱ : ۳۴۱ )
لباس اہل تقویٰ پر نہیں کچھ منحصر واعظ
کہیں کیا ہم نے کس کس بھیس میں دیکھا ہے دنیا کو