دان دہیز آکے جو پوچھو مِلا نہیں یاں کچّا سوت
سر دولہا کا تِس پہ دھنگانا جیورا مکھ دِکھلائی ہے
اگر ایک برس فرصت مِلے مجکو تو دہیز کا اور ضیافتِ غریبانہ کا سرانجام میں تیّار کروں.
( ۱۸۰۰ ، قصّہ گل و ہرمز ، ۲۲ )
آپا کے گُڈّے سے اپنی گڑیا کی شادی کروں . . . مگر دیکھو بی منجھلی ہم جب خوش ہونگے جب دَہیز ( جہیز بھی تم ہی تیّار کرو.
( ۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۴ : ۱۶۴ )