پڑن رقعہ دیا دل جیو كے بات
كتابت كوں كتے آدھا ملاقات
اسما گئی اور آدھے خرما میں زہر ملا، آدھے سادے ركھ، طباق بھرلائی.
(۱۷۳۲، كربل كتھا، ۹۵)
ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا
تو ہو یہ ثابت كہ نكلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھا
پردیسی كا دل آدھا ہوتا ہے۔
(۱۸۹۵، فرہنگ آصفیہ، ۱: ۱۳۲)
نبی كے صدقے عبداللہ عاشق
عشق میں سب ہیں آدھے توں ہے سارا