نیہ پون سیتی عیش کی کلیاں
دل کے چمناں منے کھلایا ہے
بشر کوں اپس قدرت پاک سوں
بنایا اگن ، جل ، پون خاک سوں
جس دن تیری گلی کی طرف ٹک پون بہی
میں آپ کو جلا کے کروں خاک تو سہی
تیرے دل میں اس سے ہے کیوں گھٹن کہ گھٹا گھٹا سا ہے پھول بن
وہ چلی پون ، وہ چلی پون ، وہ چلی پون ، وہ چلی پون