اس کے آس پاس زِینت سوں کیے ہیں کام ، چا ہِ ذقن اس کا نام.
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۹۹ )
درکار نہیں ہے پہریں بر میں قبائے زینت
یہ بس ہے خا کساری خاکی بدن ہمارا
زِینتِ خانہ و رنگینئی سقف و درو بام
نرمی بالش و آرائشِ بستر ہمہ ہیچ
وہ گُلِ نو شگفتہ جو رات کے اِبتدائی حصہ میں حُسن عروسی کی زینب و زِینت کو دوبالا کر رہے تھے شب مسرت کے فراق کا پیغام پہنچا چکے تھے.
( ۱۹۱۲ ، شہیدِ مغرب ، ۱۸ )
دِیگر امور جلیلہ جن سے شاعری کی زِینت متصور ہے منظور کیے جاتے ہیں.
(۱۹۷۶ ، میر انیس : حیات اور شاعری ، ۱۷۸)
داغ کی ہیکل انجھوں کی مالا زینت عشق کی یہی نمانی
پِھریں مست جو برہ کے تن کوں موتی لال پرونا کیا
اے زینتِ پہلو تجھے پاؤں گا کہاں میں
اے قوتِّ بازو تُجھے پاؤں گا کہاں میں
ماہ و انجم سے کہو زینتِ کاشانہ بنیں
کہ پھر آغوش میں وہ عشرتِ آغوش آیا
خوبصورت کلنڈر... اس بوسیدہ دِیوار کی زینت تھا.
(۱۹۸۱ ، قُطب نُما ، ۱۷)
(ii) رونق ، شان جوں خبر اہلِ بیت کے آنے کی پہنچی مجلسِ شراب تیَار کر ایک زِینت اور دبدہے سے تخت پر بیٹھا.
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۵۷ )
سمندر سے... موتی نِکلتے ہیں جو ہم عورتوں کے لیے مُوجب زِینت ہیں.
(۱۸۷۳ بنات النعش ، ۲۳۲).
زِینت پہ کائنات کی جانے لگی نظر
اب میں ترے خیال کے قابل نہیں رہا
باقی نہیں ہے ان کی بصیرت پہ اعتبار
زِینت اگر ہیں بزم کی اہلِ نظر تو کیا
وقتِ زِینت بھی نہ دیدار میّسر ہوتا
آئینہ میرے لیے سدِّ سکندر ہوتا