وہ نہ روح ہے یعنی تسمہ اور نہ بدن ہے اور نہ یہ تشخصات ہیں جو ابتداءً خیال میں آتے ہیں بلکہ وہ حقیقی روح ہے .
( ۱۸۹۸، سرسید ، تصانیف احمدیہ ، ۱ ، ۵ : ۱۶۲ )
لیکن و اسی شاہد حقیقی کے طالب ہیں جو تعین او تشخص بلکہ اطلاق کی قید سے بھی آزاد ہے .
( ۱۹۰۷، شعرالعجم ، ۵ : ۱۷۹ )
اعتبار اظہار تجلی تفصیل تغیر و تبدیل تصور تشخص تعین حدوث خلق کون فساد سب کا ایجاد.
( ۱۸۸۴، تذکرۂ غوثیہ ، ۴ )
کجا حفظ حکومت کے بعد اس کے نظام کے تعین و تشخص کی غلطی فاین ہذا من ذالک .
( ۱۹۲۴، تبرکات آزاد ، ۲۳۴ )
جب دو قومیں اس درجہ تک پہنچ گئیں تو عقلی آزادی اور تشخص کے نہ ہونے کی وجہ سے وہیں پر رک رہیں .
( ۱۸۹۰، معلم السیاست ، ۴۴ )
ان کا کام سوائے حسد بغض تشخص اور جھوٹی شیخی کرنے کے کچھ نہیں.
(۱۹۰۱، حیات جاوید، ۱۵۳)
ملک کی حدود کے تشخص کے بارے میں ان مصنفین میں اختلاف رائے ہے .
(۱۹۶۸، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ۳ : ۸۲۷)
انہوں نے معتزلہ کے خلاف صفات کو عین ذات مانا یعنی بجائے ان کی نفی کے جداگانہ تشخص پر اصرار کیا .
( ۱۹۶۷، اردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ۳ : ۱۸۰)
بعد مردن نہ تشخص نہ مدفن دیکھا
ایک سی آئی نظر شاہ گدا کی صورت
قانون ہند میں مسلمانوں کے قومی تشخص کو تسلیم کیا گیا تھا .
(۱۹۴۷، ہمارا قائد ، ۳۷)