عبث جگ میں شہرت ہمارا ہوا
یو تہمت خَلَقْ میں پکارا ہوا
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
(۱۸۱۰، میر، ک، ۱۰۵)
کیا تو نے میرے شہزداے کو قتل نہیں کیا . . . ہر گز نہیں، یہ جھوٹی تہمت ہے.
(۱۹۱۴، راج دلاری، ۱۳۳)
جدا ان تو کیا جو نا ہیں عاشق
انھی تہمت چاری پر سونا حق
بے انتظامی کی تہمت ، غفلت کی بدنامی، واجد علی شاہ کے سر پر دھردی تھی.
( ۱۸۹۰، فسانہ دل فریب، ۴)