ساون بھادوں میں جنم ہو تو ہنر مند ہو .
( ۱۸۸۰، کشاف النجوم ، ۴۴ )
جدید نثر اردو کا جنم فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں ہوا .
( ۱۹۶۱، تین ہندوستانی زبانیں ، ۱۵۰ )
میں نے تیرے ساتھ کیا جانے کیا احسان اس جنم میں کیا تھا کہ اس احسان کے عوض میں تو یوں شکریہ ادا کرتا ہے .
( ۱۹۰۳، سوشار، بچھڑی ہوئی دلہن، ۶۵ )
غرق گریہ ہے شب و روز بتوں کے غم میں
بحر تیرا ہے جنم مردم دریائی کا
ریڑھ کی رکھتے ہیں ہڈی دو جنم کے جانور
اور ان کی تین نوعیں پائی ہیں اب تک قرار
غفلت سوں کھاویں ، غفلت سوں پیویں ، جنم اپنا غفلت سوں کھو ویں .
( ۱۶۳۵، سب رس ، ۱۰۰ )
لگیں ہیں جی پر برہ کی گھاتیں تلپہ تلپھ کر بتائیں رائیں
تمہاری جن نے بتائیں باتیں اکارت اپنا جنم گنوایا