آشتاہی ، نئیں تو جاتا ہوں
کیا کروں جی اُداس ہوتا ہے
نے وہ تعظیم وخلق نے وہ پاس
بولے کچھ زیر لب اُداس اُداس
دیکھ تجکوں اداس اے جاناں
دل مرا مجھ ستی ہوا ہے اُداس
پھر اداسا وہ کب لگائے وہاں
ہوئے آزاد جس مکاں سے اُداس
اس دن بہت اداس تھا زہرا کا یادگار
زردی تھی رخ پہ گیسوؤں پرراہ کا غبار
جان جاں کس فکر سے ہے پھول سا چہرہ اوداس
آپ کو ہم نے کبھی دیکھا نہیں ایسا اوداس
کرلیں مقابلہ رخ رنگیں سے بلبلیں
آگے تمہارے رنگ گلوں کا اداس ہے
ہریک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے
عشرت کدے کا نام بھی باقی نہیں رہا
مے خانہ ہے اداس کہ ساقی نہیں رہا