کر سکھ سوں بیس تخت اپر خسروی مدام
جو لگ جنوب و مشرق و مغرب ہے ہور شمال
چوڑائی شمال سے جنوب تک.
( ۱۸۵۶، فوائد الصبیان ، ۱۴۷ )
مخلوق شرق و غرب و شمال و جنوب میں
بھرتی ہے اعتقاد سے دم چار یار کا
اصول باد کے چار ہیں اول شمال جس کی جائے وزیدن مطلع بنات النعش ہے تا مغرب آفتاب دوسرے صبا . . . تیسرے باد دبور جو مطلع سہیل سے مغرب تک ہے ، جنوب مطلع اس کا مشرق آفتاب سے تا مطلع سہیل .
( ۱۸۷۷، عجائب المخلوقات اردو ، ۱۴۶ )
دوسری قسم کا نام ہے جنوب یہ ہوا ابروں کو جمع کرتی ہے.
( ۱۹۴۰، قصیدۃ البردہ ، ۳۹۷)