سُنار ہوکے سُنّے کے لفظاں گھڑیا
تنِ معنی چُن چُن اُنن پر جڑیا
سونے سارن٘گ دیکھ تیرا سناروں پو کو چن ہینگے
ہمیں کیو جُھوٹ کہیں صاحب سونا ہے آج اس کس کا
سنار : زرگر بتازی صیّاغ .
(۱۷۵۱ ، نوادرالالفاظ ، ۲۸۷)
لائے گا یوں رہ پہ تجکو پیرِ یار
جوں کھرے سونے کا تاپا کر سُنار
سب انسپکٹر نے سُنار اور میناکار اور کندن ساز کو بُلوایا.
۱۸۸۷ ، جامِ سرشار ، ۱۲۴)
اناج اور کپڑے اور سُنار کا کام مسلمان کرتے ہیں نہیں.
(۱۹۲۳ ، احیاءِ ملّت ، ۲۷)
علاوہ ازیں موچی ، سُنار ، بڑھئی ، کپڑا رن٘گنے والے کا شُمار بھی گھریلو صنعت کاروں میں ہوگا.
(۱۹۵۹، گھریلو صنعتیں ، ۱۰)