خوشی خبراں سُنایا عید بکرید
کہ قرباں ہونے آیا عید بکرید
جگر کا داغ جا کِس کوں دِکھاؤں
یہ اپنا حال جا کِس کوں سُناؤں
نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سُنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
یہ الگ داستان ہے پھر کبھی سُناؤں گا.
(۱۹۸۳ ، دیگر احوال یہ کہ ، ۵۸)
پُوچھتے ہو تمہیں تو خیر کہتے ہیں ماجرائے غم
یہ بھی سنائے رکھتے ہیں تم سے سُنا نہ جائے گا
دل سے اَربابِ وفا کا ہے بُھلانا مُشکل
ہم نے یہ ان کے تغافل کو سُنا رکھا ہے
میں عاشقِ مظلوم وہ بے رحم و ستمگر
وہ مجھ کو سُنا جائے ہے سو غصّے میں آ کر
سیکڑوں مُجھ کو سُنا کر محفلِ اغیار میں
سچ کہا تُم نے کہ میں نے تو کہا کُچھ بھی نہیں
وہ سیاست کے اکھاڑے کے امی گرامی پہلوان تھے ، سُنتے بھی تھے سُناتے بھی تھے.
(۱۹۸۴ ، کیا قافلہ جاتا ہے ، ۲۲۰)
مجھ کو سُنا سُنا کے یہ کہتے ہیں اہلِ کیں
اب فاطمہ کے لال کا یاور کوئی نہیں
سُنایا جو اپنا گلا ناگ کیوں
سو آیا نکل سنڈ تے ہلوں
درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں
حسبِ حال اس کے تو پھر شعر سُنا رہتا ہوں
باغ میں آئے ہو گلرو تو ذرا بُلبل کو
غزلِ اخترِ خوش لہجہ سُناتے نہ چلو
ذرا اپنے ملک کا گانا تو سُناؤ.
(۱۹۶۵ ، بجنگ آمد ، ۴۶)
گالیاں غیر سے سُناتے ہو
ہاں میاں تم سے اور کیا ہو گا