نہ دکھلاؤں کسی جوہر فروشاں کوں مرا جوہر
دیا حق روشنی سب جوہراں میں میرے جوہر کوں
آیا ہے اب سفر سیں مرا دلستاں آج
پائی ہے پھر مروں نیں جدائی کے جان آج
روکے اُس شوخ سے قاصد مرا رونا کہنا
ہنس پڑے اس پہ تو پھر حرفِ تمنا کہنا
اِک شب بھی وصل کی نہ مِرا ساتھ دے سکی
عہد فراق آ کہ تجھے آزماؤں میں
ایک ہی مسئلہ تا عمر مرا حل نہ ہوا
نیند پوری نہ ہوئی خواب مکمل نہ ہوا