دوئے میں میرے چڑیا یا چوہا
نا پاک کوا تحقیق ہوا
اس ریش خضابی کو نہ کر تیل سے چکنا
اے شیخ کہیں رات کو چوہا نہ کتر جائے
رعونت سے مینڈک اُچھلتے چلے
بلوں میں سے چوہے نکلتے چلے
صرف دو ہی صدیوں میں بھورے چوہوں نے . . . اپنا سکہ جمالیا .
(۱۹۳۲ ، عالم حیوانی ، ۴۹۹)
چگ لیتے ہیں دہقان کے ہر کھیت کو چوہے
تیار ہو جیسے ہی کوئی فصل بھی پک کر
ناک کے پانسے پر لیٹی ہوئی گاڑھی رطوبت اور کالے کالے چوہے نظر آتےہیں .
(۱۹۲۴ ، خلیل خان فاختہ ، ۱ : ۱)