میں یوں لپٹ دِقّت سوں تجھ پڑینچ می آشوق سوں
آواز رُن جُھن کی سُنا تازی کرے پینجن طبع
کسی کی تم کو دہشت کیا تھی خط لِکھا تو ہوتا
جوابِ خط میں دِقّت کیا تھی خط لِکھا تو ہوتا
وصیّت کے قاعدے میں بڑی دِقت یہ تھی کہ ناگہانی موت کے موقع پر تقسیمِ جائداد کا کوئی اصول جاری کرنا ممکن نہ تھا.
( ۱۹۱۴، سیرۃ النبیؐ ، ،۲ : ۱۲۸ ).
کِس کو دِکھلاوؑں جو گُزرے ہے تری اُلفت میں
کچھ مرے بس کی نہیں پھنس گئی اک دِقّت میں
بعض قومیں اب تک نصف و حشت کے دلدل اور دِقَت میں کیوں پھنسی ہوئی ہیں.
( ۱۸۹۸، سرسید ، مکمل مجموعۂ لیکچرز و اسپیچز ، ۶۷ ).
دِقّت یہ تھی کہ وہ لڑکی گونگی تھی.
( ۱۹۸۶، اوکھے لوگ ، ۱۶۰ ).
باندھا ہوں اپس جیو ترے موئے کمر سوں
دیکھا ہوں اسے جب ستی دِقَت کی نظر سوں
نہیں طعن کِیا کسی نے بیِچ کسی قول کے ... مگر جاہلوں نے ... کہ جاہل رہے اوس کی دلیل سے یا دِقّت اور باریکی اس کی سے.
۱۸۶۷، نورالہدایہ ، ۱ : ۱۰).