چاند ماری کر رہا ہے وہ تفنگ ناز سے
صاف اُڑ جائے گا گو مہ ہے نشانہ دور کا
چاند ماری کرنے کے لئے میگزینوں میں کارتوس قدیم سے بنتے چلے آتے ہیں .
( ۱۹۱۹ ، غدر دہلی کے افسانے ، ۴ : ۱۶۸ ) .
جو مجھ خم گشتہ کی جانب تری مژگاں صف آرا ہے
کرے گی چاند ماری اے صنم فوج نصاریٰ ہے
شامت کا مارا . . . توپخانوں کی چاند ماری کا نشانہ بن جاتا تھا .
( ۱۸۸۰ ، آب حیات ، ۲۸۴ ) .
وہ حضرت کی آمد سواری کا لطف
سلامی میں تھا چاند ماری کا لطف
اس کا نشانہ قلب کی چاند ماری پر جا کر لگتا ہے .
( ۱۹۱۷ ، مضامین قاری ، ۵۸ ) .
حضرت شاہ شرف کی خانقاہ جاتے ہی داہنے کی طرف سڑک جیل کے متصل ٹیلہ ہائے چاند ماری موجود ہے .
( ۱۸۶۴ ، تحقیقات چشتی ، ۵۳۳ ) .