ان میں ستون اور ایک قسم کے سنگ موسیٰ کی ۔ ۔ ۔ صناعی کے کام ہوں گے کیونکہ اس پتھر پر نہایت عمدہ جلا ہوتی ہے۔
(۱۹۳۲، اسلامی فن تعمیر ، ۸۹)
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
ساتھ ہی ہمارے اس خیال کی بھی جلا ہوگئی۔
(۱۹۵۹، خطاطی اور ہمارا رسم الخط ، ۲)