ہو تو ہو آباد کیونکر یہ خراب آباد دل
عشقِ غارت گر اگر دنیا سے غارت ہو تو ہو
خوب دیکھے اس خراب آباد کے پست و بلند
خاک زیر پا ہے دور آسماں پالائے سر
حقیقت یہ ہے کہ اس کاغذی پیرہن میں خراب آباد ہند و پاکستان کی نسوانی زندگی، کے چند نقوش، پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے.
(۱۹۵۵، عبدالغفار ، لیلیٰ کے خطوط ، ۷۰)
مرے آباد دل کو کر خواب اس نے کہا ہنس ہنس
کہ میں اس ملک کا نام اب خراب آباد رکھنا ہوں