قضا کو مژدۂ فرصت کہ فانی مہجور
شہید کشمکشِ صبر و اضطراب ہوا
میں وہ شہید ہوں لبِ خندانِ یار کا
ہنستا رہے چراغ بھی میرے مزار کا
شہید اے ذوق سینہ میں ہوئی ہیں حسرتیں لاکھوں
مری جو آہ ہے گویا وہ ہے اک نخل ماتم کا
شہید ہوگئی ہر آرزوئے دل افسر
اب اس مکان میں بستا ہے کربلا کا سکوت