اس کو ایسی ضد آئی کہ اس نے قسم کھائی کہ ۔۔۔ میں اپنے آقا کو ہرگز نہ چھوڑوں گی ۔
(۱۸۹۲ ، حط تفدیر ،۱۱ ) ۔
بچہ ہی تو تھا ، اُسے بھی ضد آگئی .
(۱۹۱۰ ، گرداب حیات ، ۴۷ ) ۔
بہت طرح میں نے انکار کیا مگر نہوں نے نہ مانا ، ضد آگئی ۔
(۱۹۷۱ ، اردو نامہ ، کراچی ، ۳۶ : ۱۰۱) ۔