اچھے عقل سوںبخت کوں یاوری
اچھے عقل سرمایۂ داوری
اے جوانو تمہارا سرمایہ آخر ہو چاک اب بساط بازی لپیٹو اور اپنے گھر کی راہ لو.
(۱۸۰۳ ، گل بکاولی ، ۹).
حضرت خدیجہ کے پاس اُن کے پہلے شوہر کا بڑا سرمایہ تھا.
(۱۸۸۵، فسانۂ مبتلا، ۱۷۹).
اگر یہ تعمیم نہ ہوتی تو ان کو اپنی تصنیفات کے لیے کُچھ سرمایہ ہاتھ نہ آتا.
(۱۹۰۴، مقالاتِ شبلی، ۱۶۳:۱).
کالج کا سرمایہ ارو کرایہ ایسے کھاتے میں پڑ جائے گا کہ حکومت کو بھی خبر نہیں ہونے پائے گی کہ کیا حساب تھا اور اس کا کیا نتیجہ نِکلا.
(۱۹۸۴، مقاصد و مسائل پاکستان ، ۸۸).
نُسخے آزمودہ مجرب جو سرمایہ تمام عمر کے سوا ان نسخوں کے تھے ... جمع کر کے یہ رسالہ درست کِیا.
(۱۸۴۷، مُفیدالاجسام ، ۶۳).
بالکل ممکن تھا کہ آج کا سرمایہ کل کے مصارف کے لیے اُٹھا رکھا جائے.
(۱۹۱۴، سیرۃ النبیؐ ، ۲۷۶:۲).
انہوں نے ادب کا جو سرمایہ چھوڑا ہے اس کی قدر و قیمت ہمیشہ وہی رہے گی جو اعلیٰ درجے کے ادب کی ہوا کرتی ہے.
(۱۹۸۷، مقالاتِ عبدالقادر (پیش لفظ)، ۱۷).
ادریس کاکہاں ہے جو پیرایہ ہے ترا
قرآن و آل خلق میں سرمایہ ہے ترا
سرمائے کے اجرا پر بلا واسطہ نِگرانی کے سبب سے بھی یہ طلب گھٹ گئی تھی.
(۱۹۶۰، دوسرا پنج سالہ منصوبہ ، ۱۴۴).
سرمایۂ صد آفتِ دیدار کی خواہش ہے
دل کی تو سمجھ لیجے گر چشم کہا مانے
اے آل ابی بکر تم لوگوں کے لیے سرمایۂ برکت ہو.
(۱۹۱۴، سیرۃ النبی ، ۱۰۸:۲).
جو تُخم تھا جہاں کا سرمایۂ حقارتِ
وہ آج نخل بن کر دیتا ہے سب کو سایا