گرمئ گُفتارِ اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری
یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس شہرمیں یا و بُھوک اُگتی ہے جو غریبوں کو کھائے جا رہی ہے یا یہیاں ناتواں کے نوالے سرمایہ دار عقاب جھپٹ کر لے جاتے ہیں
(۱۹۷۵، ہمہ یاراں دوزخ، ۸۹).
محفلِ ہستی ری بربط سے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
ہندی کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرنے کے لیے ... آئین کے بنائے ہوئے طیرقے سے اس کو سرمایہ دار بنانا ہے.
(۱۹۶۰، اردو زبان اور انکا رسم الخط (ضمیمہ)، ۸۹).
ایک زبان کو علمی حیثیت سے سرمایہ دار بنانے کے لیے جس قدر عِلمی ذخیرہ کی ضرورت ہے اُردو کا دامن اس سےخالی تھا.
(۱۹۸۶، حیاتِ سلیمان، ۸۷).
ان باوںکو یورپکا سرمایہ دار نہیں جانتا.
(۱۹۲۲، نقشِ فرنگ ، ۱۴۱).
نچوڑتا ہے لہو غربوں کا ، دستِ سرمایہ دار اب بھی
(۱۹۵۴، آتشِ گُل ،۲۰۶).