صرف مچھر دانی پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا ۔
(۱۹۱۷ ، سفر نامہء بغداد ، محبوب عالم ، ۳) ۔
شام کو وہ کھلے صحن میں پلنگ بچھوا کر اس پر مچھر دانی لگواتے ۔
(۱۹۸۹ ، آب گم ، ۲۱۱) ۔
کوئی حسینہ کسی قیمتی شیشم کی مسہری پر ریشمی مچھر دانی کے اندر محو خواب ہو ۔
(۱۹۹۹ ، افکار ، کراچی ، اپریل ، ۵۷) ۔