مرنڈا ہو کر گولا لاٹھی بن کر تینوں سامنے آ پڑے.
(۱۸۷۷، طلسم گوہر باز ، منیر ، ۱۱۶).
گٹھیا کے سبب اس کے ہاتھ پاؤں ایسے اکڑ گئے تھے کہ گولا لاٹھی اور گول مٹول ہو گیا تھا.
(۱۹۲۲، دلی کی جاں کنی ، ۶۹).
طاقت آزمائی کے بعد دان٘وں پیچ شروع ہوئے اور اک دستی ، دو دستی ... گولا لاٹھی ... قفلی ہوتے ہوتے شہزادے نے رخشاں کی کمر بند زنجیر میں ہاتھ ڈال ایک ہی قوت میں سر سے بلند کیا.
(۱۹۴۳، دلّی کی چند عجیب ہستیاں ، ۵۸).
بہت سے داؤں بھی ہوتے ہیں مثلاً : ہتکوڑا ، بغل گیر ، حلقوم ، گولا لاٹھی ، بازو بند ، وغیرہ.
(۱۹۷۰، غبارِ کارواں ، ۲۶) .