اسی طرح تخلیقی امکانات کے بارے میں جائزہ ’’ مستقبل بین ‘‘ بھی نہیں ثابت ہو سکتا ۔
(۱۹۸۸ ، پاکستان میں اردو ادب (مقدمہ) ، ۱۴)
غالب کی مستقبل بین ۔۔۔۔۔ سوچ اُنھیں صوفیوں کی طرح یک سو ہو کر بیٹھ جانے کی اجازت ہی نہ دیتی تھی ۔
(۱۹۹۵ ، نگار ، کراچی ، مارچ ، ۴۹)