اب تو میں چھوڑنے کا نہیں اس کو ناصحا
ہونی جو کچھ تھی قبلۂ حاجات ہو گئی
طاقِ ابرو کے نظارے کے تھے خواہاں سو ملا
اور کیا حاجت اب اے قبلۂ حاجات کہوں
باتیں سنو تو حضرتِ صوفی سے عرش کی
جاتا ہے دور قبلۂ حاجات کا خیال
شب کو میخانے میں کیوں پہنچے تھے اے حضرتِ شیخ
کہیے اچھی تو کٹی قبلۂ حاجات کی رات
(۱۹۳۲، ریاضِ رضواں ، ۱۱۳).