قبلہ رو رحم کیا مجھ پہ خط آغازی میں
کافرِ ہند مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا
مزہ گناہ کا جب تھا کہ باوضو کرتے
بتوں کو سجدہ بھی کرتے تو قبلہ رُو کرتے
مڑھا ہوں آنکھ کے پردے میں تارِ مژگان سات
وہ قبلہ رو کی کیا ہوں میں خاک با تعویذ
اس قبلہ رُو جماعت کا انتشار دیکھو
اس باغ میں خزاں کی اکبر بہار دیکھو