سو یہ فراغ کہاں بلکہ بے قراری ہے
کیا ہے گردشِ گردوں نے مثل قبلہ نما
مرغِ قبلہ نما کو وحشت ہے
بال کھولے ہیں پر نہ طاقت ہے
ان سب آلات کے سوا ایک قبلہ نما جس کی سوئی شمال کی طرف بتلاتی ہے یا قبلہ نما جس کی سوئی مغرب کی طرف جتاتی ہے ضرور چاہیے.
(۱۸۷۶ ، مصبالح المساحت ، ۲ : ۵).
ہے یہی گھر وہ خدا کا جہاں بُت رہتے تھے
دیکھا قبلے کو تو وہ قبلہ نما یاد آیا