پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے
رہے گا دیر تک ماتم ہمارا
ان کی وفات پر اطرافِ ہندوستان میں رنج و ماتم کا اظہار کیا گیا.
(۱۸۹۹، حیاتِ جاوید، ۱ : ۹).
ایک دوست کے ماتم سے ابھی تک فارغ نہیں ہوئی ہوں.
(۱۹۲۱، توپ خانہ، ۳۱).
ماتمِ شہرِ نگاراں سے کہیں بہتر ہے
اور کچھ دیر رہو محوِ دُعا رات گئے
سپہ سب تمام رات ماتم کیا
او پلکھاں ستی لہو کے آنجو رویا
دل جلوں پر روتے ہیں جن کو ہے کچھ سوزِ جگر
شمع رکھتی ہے ہماری گور پر ماتم ہنوز
مرنے کو میرے عیش سے بہتر ہو سمجھتے
ماتم کی تمنا ہے ترنم سے زیادہ
موجودہ زبوں حالی کا ماتم ہے اور مستقبل میں تابناک اور روشن منزل تک پہنچنے کی راہِ عمل دکھائی گئی ہے.
(۱۹۹۳، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ۲۳).
گئی رات روتے ہوئے زار زار
ہوئی صبحِ ماتم ابھی آشکار
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
دے گئی ہو آہ، جس کو رنج بے حد آرزو
جس کے سینے میں بپا ہو ماتمِ صد آرزو
آپ کی تنگ نظری یا اپنی بدقسمتی کا ماتم کروں اور کیا کر سکتا ہوں.
(۱۹۳۵، یوسف عزیز، مکاتیب، ۹۵).
سر و سینہ ہی پر رہا بات بس
مرا گھو تو ہر روز ماتم رہا
گھر ہجر میں جو تعزیہ خانہ سے کم نہیں
پڑھ پڑھ کے نوحہ کرتے ہیں ماتم تمام رات
ہائے اس جنگل میں لا کے ڈالا ہے جہاں کہیں ازان کی آواز نہیں آتی، ماتم کی آواز نہیں آتی.
(۱۹۰۰، شریف زادہ، ۸۸).
جب کوئی مر جاتا ہے تو اعزاء و احباب جمع ہوتے ہیں اور سخت ماتم کیا جاتا ہے.
(۱۹۹۲، نگار، کراچی، دسمبر، ۱۹۸).
اف: کرنا، ہونا.
(۱۹۹۲، نگار، کراچی، دسمبر، ۱۹۸).