آہ کی صورت تھا مینا اور ساغر چشمِ تر
بزمِ عشرت بن میرے کیا تھی کہ ماتم خانہ تھا
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نَفَس
برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
چارہ سازی تیری بنیاد افگنِ کاشانہ ہے
تیرے دم سے آج دنیا ایک ماتم خانہ ہے
غم کا احساس لمحاتی سے زیادہ نہیں ہوتا (گویا) ہم اپنے ماتم خانے کی شمع بجلی جیسی یک لمحہ نمود رکھنے والے شےؑ سے روشن کرتے ہیں.
(۱۹۸۷، تنقید و تحقیق، ۲۲).