کہ جب ہلال محرم نمود ہوتا ہے
جہاں میں کرتے قیامت ہیں اُس کے ماتم دار
کوئی اُسکا ماتم دار اور سوگوار دُنیا میں باقی نہ تھا.
(۱۸۸۶، حیاتِ سعدی، ۲۰).
ماتم دار عورت کو ہر ایک پُرسہ دینے والی کے ساتھ رونا پڑتا ہے.
(۱۹۰۵، رسوم دہلی، سید احمد، ۱۱۳).
تُونے میرا دل ... ٹکڑے ٹکڑے کر کے مجھے ہزاروں آرزوؤں کا ماتم دار بنا دیا.
(۱۹۹۳، نگار، کراچی اکتوبر، ۲۹).