عمرو سچ کہتا ہے میاں کی جوتی میاں کا سر اسی طلسم کے سردار یہیں کے سب تاجدار صرف چھ عیار ایک سردار اتنے بڑے طلسم میں آئے یہ فوجیں جمع کرلیں ۔
(۱۸۹۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۶ : ۹۳۶)
تنخواہیں بڑھیں تو کیا میاں کی جوتی میاں کا سر رہا پہلے پیسہ میں چار سودے آتے تھے اب آنے میں بھی جنم جلی چیز نہیں آتی
(۱۹۸۶ ، د ّلی والے ، ۲ : ۱۹۱)