ہزار انچہ مرمر کہ نت ناکساں
پڑے خوار ہو طعمہ کر گساں
پہلوتہی کر اے دل جیوں موجِ ناکساں سے
مت ہو جواب دہ تو ہر ایک خار و خس کا
منھ چاہیے جو کوئی کسو سے حساب لے
ناکس کی گفتگو نہیں روزِ شمار میں
الٰہی مجھ سے زیادہ نالایق ، نابکار ، ناکس ، ناہنجار بھی کوئی شخص ہو گا ۔
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۴۴) ۔
میں ناکسوں کے ساتھ اُنس پذیر نہیں ہوں مگر میری موانست مرد آدمیوں سے ہے ۔
(۱۹۰۵ ، لمعۃ الضیا ، ۱۸) ۔
شمالی کوریا میں ناکس صرف وہی ہے کہ جو یہاں پارٹی کا وفا دار نہ ہو اور ملک کا دوست نہ ہو ۔
(۱۹۸۳ ، کوریا کہانی ، ۱۴۳) ۔
بیکس و ناکس ہوں میں ، کسی سے کروں پیرت کی بات
میرے روں روں خط کوں پڑتا ہے تمارا دل دبیر
اچھے عقل سو مردمی کا پرس
چڑھے عقل تی زور ناکس کوں کس
ناکس ہوں مجھے کس کر مجہ ہر کرم از بس کر
کل شئے میں جز رس کر یا پیر محی الدین
کون پرساں ہے مجھ سے ناکس کا
کس کو طوفاں میں پاس ہو خس کا
ہر وہ شخص جو ناکس رہنا نہیں چاہتا ، اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب کہ وہ اپنے کو دریافت کرنے ۔۔۔۔۔ کا فیصلہ کرتا ہے ۔
(۱۹۸۵ ، نقد حرف ، ۱۳) ۔
مو دل کا بات کھیا نیں کدھیں کسوں ناکس
نہیں ہے کہنے کہ حاجت عیاں ہے ان کوں راز
رشتہ کی خاطر کرے سوراخ گوہر کا جگر
بہر سودِ ناکساں اس سے کساں کا ہے زیاں
قبضہ تھا ناکسوں کا تو بے آب و تاب تھے
اُس وقت تھے جو صاحب جوہر خراب تھے
چاپلوسی جا کے کرتے ہیں سفیہوں کی فقیہہ
ناکسوں کے ناز بیجا سہتے ہیں اہل ہنر
سایہء شمشیر میں پوشیدہ جنت ہے مگر
ناکسوں کے سامنے اس بھید کا چرچا نہ کر
[ نا + رک : کس (۱) ]
