جب ضربیں اس قدر جلد جلد پیدا ہوتی کہ فرداً فرداً محسوس نہیں ہو سکتیں تو آواز میں ۔۔۔۔۔ ناہمواری پیدا ہوتی ہے ۔
(۱۹۲۱ ، طبیعیات عملی ، ۱ : ۲۲) ۔
میرے بزرگو! ۔۔۔۔۔ ارکان دولت ناہمواری زمین کا بہانہ ۔۔۔۔۔ پیش کریں ۔
(۱۹۵۱ ، سلہٹ میں اُردو ، ۲۶۴) ۔
راستے کی ناہمواری کے باوجود پہنچتے تھے ۔
(۱۹۸۶ ، دلی والے ، ۲ : ۲۱) ۔
اُس کے تین بیٹے تھے ، جوانی کی مستی کے مارے اپنے پیشے کو چھوڑ کر باپ کے مال پر ہاتھ ڈالتے اور بیکاری و ناہمواری میں اوقات گنواتے ۔
(۱۸۰۲ ، خرد افروز ، ۴۶) ۔
ملکہ کو اپنی بہن سے نہایت محبت تھی اور سیف خان کی ناہمواری اور بیماری سے دونوں بہنوں کی خاطر جمع نہ تھی ۔
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۶ : ۲۳۱) ۔
اگر طنز نگار صرف کسی ناہمواری کی نشان دہی کرتا اور صرف کسی شخص کی کمزوری پر طعن و تشنیع کرتا ہے تو وہ کبھی کامیاب طنز نگار نہیں بن سکتا ۔
(۲۰۰۰ ، صحیفہ ، لاہور ، اپریل تا جون ، ۵۸) ۔
وہاں ساری بے عنوانیاں درست ہو جائیں گی اور ساری ناہمواریاں برابر ۔
(۱۸۹۴ ، تعلیم الاخلاق ، ۲۰۰) ۔
معاشی و اقتصادی حالات کی ناہمواری نے ان کی ذہنی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا ہے ۔
(۱۹۴۶ ، اردو تنقید کا ارتقا ، ۴۹۹) ۔
مزاحیہ شاعری دراصل ہماری زندگی کی ناہمواریوں ۔۔۔۔۔ براہ راست بے نقاب کرتی ہے ۔
(۱۹۹۳ ، قومی زبان ، کراچی ، اپریل ، ۲۵) ۔
کسی شاعر کے کلام میں ناہمواری کے معنی یہ ہیں کہ اس کے ہاں نہایت بلند پایہ اور نہایت پست اشعار دوش بدوش جگہ پا گئے ہیں ۔
(۱۹۸۵ ، کشاف تنقیدی اصطلاحات ، ۱۹۴) ۔
جب ایران میں عربی خط (نسخ) رائج ہوا تو اس کی ناہمواری اہل ایران کی نفیس اور حسن پرست طبیعت پر بار ہوئی ۔
(۱۹۷۸ ، لکھنؤ کی شاعری ، ۷۷) ۔
[ ناہموار (رک) + ی ، لاحقہء کیفیت ]
