۱۔ دکان ، سودا بیچنے کی جگہ ، لین دین کی جگہ ، بھنڈسار ۔
اور کیا ہاٹ سے بنئے کے عمداً گذار
دیکھ کے اُلّو لیا بنئے نے اس کو پکار
(۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۳۴۲) ۔
جانِ گراں بہا ہے متاعِ جنوں کا مول
سودا نہیں یہ شیخ جی بازار ہاٹ کا
(۱۸۹۴ ، کلام دلدار علی مذاق ، ۲۳۹) ۔
ہر وقت کی بات چیت اور بازار ہاٹ کا کام کاج اسی عام زبان سے پورا کیا جاتا تھا ۔
(۱۹۲۹ ، نمونہء منثورات ، ۳) ۔
جیون بیتا ، آگئی ، پچھتاوے کی شام
ہاٹ تمھاری لٹ چکی ، اب تالا کس کام
(۱۹۵۰ ، پیت کی ریت ، ۱۷۵) ۔
امروہہ کے گلی کوچے بازار ، ہاٹ اصلی ہندوستان ہے ۔
(۱۹۸۹ ، دلی دور ہے ، ۱۱۲) ۔
۲۔ سودا بکنے کی جگہ ، منڈی ، بازار ، سوق ۔
کہے شہ کوں توشا دینا باٹ کوں
کہ جاتا ہے شہ عشق کے ہاٹ کوں
(۱۶۰۹ ، قطب مشتری ، ۴۷) ۔
کوچہ و کو ہے گلی بازار ہاٹ
خلق آمد لوگ بگریز است ناٹہ (کذا)
(۱۶۲۱ ، خالق باری ، ۹۹) ۔
سب اوزار اوتارے تھے رسیاں کو کاٹ
ہوا جھاز اسفل سوں مچھلیاں کا ہاٹ
(۱۶۸۲ ، مثنوی رضوان شاہ و روح افزا ، ۱۳۲) ۔
عجب ہے دھوم مجہ دل کے نگر میں
بھرے ہیں درد و غم کے ہاٹ پر ہاٹ
(۱۷۴۷ ، دیوان قاسم ، ۵۵) ۔
وحدت کا رنگ عالم کثرت سے ہے بعید
سب جانتے ہیں اور ہے گھر ہاٹ اور ہے
(۱۸۷۵ ، شہید دہلوی ، د ، ۱۲۹) ۔
رجو ، اری موری ماں بہت پولا باندہے ہیں ، بڑے بڑے دو بوجھ بنائیں گے ایک میں اور ایک تو سر پر رکھ لیں گے ہاٹ بیچ لائیں گے ۔
(۱۹۰۱ ، عشق و عاشقی کا گنجینہ ، ۲۰) ۔
دن ڈھلا ہاٹ ہو گیا سونا
چھا گیا کنج کنج سنّاٹا
(۱۹۶۲ ، گل نغمہ ، عبدالعزیز خالد ، ۷۸) ۔
بہت سارے لوگ ہاٹ میں لائے ہوئے قربانی کے جانوروں کی طرح لائن میں کھڑے تھے ۔
(۱۹۹۱ ، قومی زبان ، کراچی ، نومبر ، ۷۳) ۔
۳۔ (i) مقررہ دن اور جگہ کا عارضی بازار جو عام طور پر آٹھویں روز لگتا ہے ، پینٹھ ۔
بازار ہاٹ میلا وغیرہ کی بھی بنیاد ڈالی ۔
(۱۸۴۸ ، تاریخ ممالک چین (ترجمہ) ، ۲ : ۷) ۔
(ii) بازار کا دن ، پینٹھ لگنے کا دن
(ماخوذ : پلیٹس) ۔
۴۔ راہ ، راستہ ۔
گھر ایک جاترا ایک ہاٹ ہو رہنا ، رات دیس تمتماٹ ہو رہنا ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۶۷) ۔
نزک قلعہ کے باڑا گھاٹ ہے وہاں
کہ دائم گلرخاں کا ہاٹ ہے وہاں
(۱۷۰۷ ، ولی ، ک ، ۳۲۴) ۔
۵۔ (کنایتہ) جسم ، بدن ۔
مجھ ہاٹ کی پجاری پچتائے گی صبا توں
جوبن نکل گئے پر پھر کیا کرے گی تن کوں
(۱۶۹۷ ، ہاشمی ، د ، ۱۷۴) ۔
۶۔ کارخانہ
(ماخوذ : پلیٹس ؛ جامع اللغات ؛ فرہنگ آصفیہ) ۔
[س : ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .