صاحب قراں اصغر کو یہ رتبہء اعلی عطا ہوا کہ جس کی رکاب دولت نصاب میں اس شوکت و حشمت کے شاہان عالی وقار حاضر ہیں۔
(۱۸۹۰ ، بوستان خیال ، ۸ : ۶۰۰)۔
مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب ِزر و سیم
(۱۹۳۵ ، بال جبریل ، ۸۹)۔
۲۔ (فقہ) اس قدر مال (چاندی ، سونا ، رقم ، مال ِتجارت ، زرعی پیداوار یا مویشی وغیرہ) جس پر زکواۃ دینا واجب ہے۔
اپنے اس سیم دہن سیں ایک بوسا دے مجھے
چہل یک واجب ہے اون کوں جو ہیں ارباب ِنصاب
(۱۷۴۱ ، شاکر ناجی ، د ، ۶۷)۔
پا نیستی کے گنج میں ہستی کے گنج کو
میں صاحب نصاب ہوا کیا بجا ہوا
(۱۸۰۹ ، شاہ کمال ، د ، ۲۰)۔
جس جنس کی قیمت حد نصاب سے تجاوز نہ کرے اس کا محصول مسلمانوں کو معاف ہے۔
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۷ : ۲۹۲)۔
قرآن مطلق زکوٰۃ کا حکم دینا ہے ، سنت نصاب اور حول کامل کی تعین کرتی ہے۔
(۱۹۰۷ ، اجتہاد ، ۱۶۲)۔
امام ابو حنیفہؒ کے پاس استعمال کے زیور پر اگر وہ نصاب کے برابر ہوجائے تو زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے۔
(۱۹۸۴ ، طوبیٰ ، ۱۲۴)۔
۳۔ جڑ ، بنیاد ، اصل ؛ آغاز ، شروع ، سرا۔
مصحف ِناطق ترے اجزا میں سب کچھ مل گیا
پارۂ اول میں پایا معرفت کا سب نصاب
(۱۹۱۰ ، صحیفہء ولا ، ۱۵۵)۔
ثقافت لوگوں کی بودوباش ، ان کے جبلی Reflexes کی تہذیب ، دنیاوی کمال اور روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے تخلیق اور نجات کے قابل ادراک نمونوں اور ریاضتوں کا نصاب رہی ہے۔
(۱۹۷۴ ، توازن ، ۹۷)۔
۴۔ (تعلیم) مضامین یا مخصوص کتب یا عملی کام جو کسی تعلیمی یا تربیتی درجے کے امتحان کو پاس کرنے کے لیے مقرر ہو ، پڑھائی کا کورس ، مقررہ تعلیم ، درس۔
واہ کس لطف سے پڑھتا ہے تو اے طفل نصاب
مدح کرتا ہے ابونصر فرابی تیری
(۱۸۷۲ ، مراۃ الغیب ، ۲۹۳)۔
ادب اور عربیت اندلس کے نصاب تعلیم کا لازمی جزو تھا۔
(۱۹۱۴ ، مقالات شبلی ، ۵ : ۲۱)۔
ان کے نصاب میں نئی نئی مشینیں آئے دن داخل ہوتی رہتی ہیں۔
(۱۹۴۴ ، آدمی اور مشین ، ۲۴۸)۔
نصاب اس قدر پرانی روش کا تھاکہ اس سے جدید دور میں کوئی فائدہ پہنچتا نظر نہ آتا تھا۔
(۱۹۹۱ ، تعلیم و تعلم میں انقلاب کیوں اور کیسے ، ۳۶)۔
۵۔ (i) کسی اجلاس کے لیے ارکان کی کم سے کم مقررہ تعداد ، کورم۔
موتمر کے انعقاد کے لیے ممالک کی تعداد کم از کم چھ ہونی چاہیے اور اسی نصاب (کورم) پر عمل ہو گا۔
(۱۹۲۶ ، مسئلہ حجاز ، ۱۵۳)۔
کورم ، کسی انجمن ، مجلس یا اجتماع کے معینہ نصاب کے لئے بول چال میں مستعمل ہے۔
(۱۹۵۵ ، اردو میں دخیل یورپی الفاظ ، ۶۵)۔
نصاب درحقیقت ارکان کی اس کم سے کم تعداد کو کہتے ہیں جن کا کسی اجلاس میں حاضر ہونا ضروری ہے۔
(۱۹۷۰ ، پارلیمانی طریق کار ، ۱۹۲)۔
(ii) (فقہ) گواہوں کی مقررہ تعداد ، گواہی کا کورم۔
نصاب شہادت زنا کے لیے چار مرد ہیں۔
(۱۸۶۷ ، نورالہدایہ ، ۳ : ۷۹)۔
انھوں نے ہبہ کے دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ نصاب شہادت نہیں تھا۔
(۱۸۹۵ ، آیات بینات ، ۲ : ۱۴۲)۔
سات جرموں میں نصاب شہادت کی ضرورت ہے اور نصاب دو گواہوں سے ہوسکتا ہے۔
(۱۹۲۵ ، قرآن مجید کے فوجداری قوانین ، ۴۷)۔
نصاب میں بھی عورتوں کا ثانوی کردار ہی قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
(۱۹۸۷ ، آجاؤ افریقہ ، ۱۷۶)۔
۶۔ کسی چیز کی مقررہ یا مطلوبہ مقدار یا تعداد۔
ایک دو شعر اچھا نکل آیا ، باقی کم وزن اور پھس پھسے شعروں سے غزل کا نصاب پورا کردیا۔
(۱۸۹۳ ، مقدمہء شعرو شاعری ، ۱۴۸)۔
کل نظم میں بے نصاب کا رنگ
جیسے نظم لغات فرہنگ
(۱۹۲۸ ، تنظیم الحیات ، ۲۳۴)۔
ہر حرف کو ہزار بار شمار کر کے پڑھے مثلاً بیس حرف کو بیس ہزار پڑھے ۔۔۔۔۔ اور بیس حرف کو اندر بیس کے ضرب کیا ۴۰۰۰۰ اور حاصل ضرب کو جمع کیا ، اس کو نصاب کہتے ہیں۔
(۱۹۵۱ ، مفتاح الجفر، ۱۹۳) ۔
۷۔ (طب) کسی خاص دوا یا علاج کے جاری رہنے کی مدت ، کورس۔
ایک نصاب کے بعد ۴ تا ۶ہفتہ کا وقفہ دینا چاہیے۔
(۱۹۴۸ ، علم الادویہ (ترجمہ) ، ۱ : ۲۶۹)۔
۸۔ جانچ پڑتال کا طریقہ ، معیار ، کسوٹی۔
تیرھویں چودھویں صدیاں ۔۔۔۔۔ شایستگی کے ایک مناسب نصاب کے حاصل کرلینے کے سبب سے عہد وسطیٰ کے ساتھ ملقب ہیں۔
(۱۸۸۹ ، رسالہ حسن ، مئی ، ۳۶)۔
جب اس کا نصاب لیاقت تمام ہوجاتا ہے تو اس کی تکمیل اور اس کے فائدے کے لیے ہستی کے عالم میں اوسے نمودار کرتا جاتا ہے۔
(۱۹۱۰ ، العجالۃالنافعہ (ق) ، ۲۴)۔
شخص اکبر کے کمالات کا نصاب ۔۔۔۔۔ آخری حد کو پہنچ گیا۔
(۱۹۵۶ ، مناظر احسن گیلانی ، عبقات ، ۲۲۲)۔
تائید ایزدی ہم ناتواں انسانوں کا بھی نصیب اور ان کے کاموں کا نصاب ہے ۔
(۱۹۹۸ ، قومی زبان ، کراچی ، نومبر ، ۲۴)۔
۹۔ ترازو کی موٹھ ؛ محور (Fulcrum) ؛ ٹیک یا سہارا۔
یہ چول محور کا کام دے گی اس محور کو اصطلاحی زبان میں نصاب کہتے ہیں۔
(۱۹۳۱ ، عملی طبیعیات ، ۱۱۸)۔
عام ترازو پہلی طرز کا ایک لیور ہے جس کی ڈنڈی کے وسط میں نصاب (Fulcrum) ہوتا ہے۔
(۱۹۶۵ ، مادے کے خواص ، ۱ : ۲۳۰)۔
۱۰ ۔ چاقو کا دستہ ، تلوار کا قبضہ
(فرہنگ آصفیہ)۔
۱۱ ۔ درجہ ، مرتبہ۔
ذرہ گر خورشید سے ہو کامیاب
بے گماں معلوم ہو قدرِ نصاب
(۱۸۲۸ ، باغ ارم ، ۴)۔
عالم کا حساب کیا ہے معلوم نہیں
اس فن کا نصاب کیا ہے معلوم نہیں
(۱۹۴۷ ، رباعیات امجد ، ۲ : ۹۴)۔
۱۲ ۔ قسمت ، نصیب
(ماخوذ : علمی اردو لغت ؛ پلیٹس)۔
[ ع : (ن ص ب) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .