میں بھی اس نظام اقدار کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتا ہوں جس کی بدولت اس آدمی نے پھانسی پائی ۔
(۱۹۵۰ ، تخلیقی عمل اور اسلوب ، ۱۴۹) ۔
وہ دولت کی مساوی تقسیم کے قائل تھے اور نظام اقدار میں ہمواری کا احساس ان پر چھایا رہتا تھا ۔
(۱۹۷۹ ، رہ نوردان شوق ، ۹۸) ۔
[ نظام + اقدار (قدر (رک) کی جمع) ]
