وجہِ سیوم یوں ہے سن اے باخرد
اس کی مادر کے نہ جیتے تھے ولد
جب قربانی ولد کا حکم ہوا ۔
(۱۸۴۵ ، احوال الانبیاء ، ۲ : ۱۱۸) ۔
رنج بیٹے کا کہیں باپ سے جاتا ہے سہا
کیوں نہ والد کا جگر داغ ولد سے جل جائے
۔ جس عورت نے دودھ پلایا وہ اوس ولد کی ماں ہو جاتی ہے
(۱۸۶۷ ، نورالہدایہ (ترجمہ) ، ۲ : ۳۹) ۔
محروم گور احمد ﷺ مرسل کا لاڈلا
سردارِ دہر آہ ولد ہو حرام کا
اس کی ذات ولد سے منزہ ہے کہ وہ واحد حقیقی ہے ۔
(۱۹۱۱ ، القرآن الحکیم ، تفسیر ، مولانا نعیم الدین مراد آبادی ، ۳۴۶) ۔
اس لیے کہ وَلَد اور ابن عربی میں قریب المعنی ہیں ۔
(۱۹۴۱ ، کتاب الہند (ترجمہ) ، ۱ : ۳۷) ۔
وَلَد بفتح لام و سکون لام ۔۔۔۔ اردو میں تویہی دو صورتیں رائج ہیں ۔
(۱۹۸۶ ، کتب لغت کا تحقیقی و لسانی جائزہ ، ۲ : ۳۰۳)