وہ گرمی وہ دم اہل محشر کے بند
سوا نیزے پر آفتاب بلند
(۱۸۷۲ ، محامد خاتم النبیینؐ ، ۲۱۳) ۔
نیزے اور چھری سے وہ (تلوار) ایک علیحدہ اور جداگانہ ہتھیار ہے ۔
(۱۹۵۶ ، مناظر احسن گیلانی ، عبقات ، ۲۷) ۔
سوا نیزے پر سورج آجانے سے میرا بدن جھلس چکا تھا ۔
(۱۹۸۲ ، بند لبوں کی چیخ ، ۱۶۰) ۔
ایک پانچ منزلہ رتھ بنایا جاتا تھا جس کے ستون ہلال نما بانسوں کے ہوتے تھے جو دیکھنے میں نیزے اور تیر معلوم ہوتے تھے ۔
(۲۰۰۱ ، ادیان و مذاہب کا تقابلی مطالعہ ، ۱۷۴) ۔
سائل دہلوی کے قلم جو اپنے قلموں کے نیزے مہینوں کی چھان بین کے بعد منتخب کرتے تھے
۔ (۱۹۹۸ ، ارمغان عالی ، ۵۴۱) ۔