الہٰی ہماری ملکہ وکٹوریا ہو اور جہان ہو ۔
(۱۸۵۸ ، مکمل مجموعہء لیکچرز و اسپیچز ، ۳) ۔
ملکہء سبا کا سلیمان سے ملاقات کا قصہ خاص طرح پر قابل ذکر ہے ۔
(۱۹۱۱ ، سیرۃالنبیؐ ، ۱ : ۱۰۷) ۔
ایک روایت کے مطابق دنیاؤں کی ملکہ لکشمی اپنی ہی مرضی سے از خود ایک ۔۔۔۔۔ کھیت میں پیدا ہوئی ۔
(۱۹۹۰ ، بھولی بسری کہانیاں ، بھارت ، ۲ : ۱۸۰) ۔
جس وقت کہ ملکہ مکھیوں کی مر جاتی ہے ۔
(۱۸۴۱ ، مقاصد علوم ، ۹۶)۔
وہ نام کی ملکہ نہیں ہے سارے سنسار کی ماتا ہے ۔۔۔۔۔ اس مومی ہنڈولے کو اس نے رائی سے پربت بنایا ۔
(۱۹۴۰ ، شہد کی مکھیوں کا کارنامہ ، ۱۹) ۔
پھر ملکہ اور نر اوپر اُڑ جاتے ہیں اس کے بعد ملکہ انڈے دیتی رہتی ہے ۔
(۱۹۷۵ ، حرف و معنی ، ۳۹) ۔
مکلّل زر اتن میں سر تا قدم
چلیا ملکہ سار اجدہاں سب حشم