اپنی قہر و محبت کی نگاہ سے دوسروں کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۱۶) ۔
ہم شان و شوکت کے بجائے رسول اکرمؐ اور صحابہء کرام ؓ کے دور کی سادگی کو رواج دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور اس کو معمول بنایا جا رہا ہے ۔
(۱۹۸۳ ، سفرنامہء ایران ، ۱۰۲) ۔