روزے سے ہیں گے بستہ دہن غنچہء چمن
آ پہنچ اس گھڑی اے نسیم سحر گہی
تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخود
دنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگذر کہ ہم
کرتے ہیں اون کو شکاری صید جب
نافہ ہائے نغر پاتے ہیں گے تب
پیچ میں ان کے نہ آنا زینہار!
یہ نہیں ہیں گے کسی کے یار غار