ہیں ہیں! تم تو ایسا نہ کہو وہ نواب کے پاس تھا ہی کیا جو گھر بھر لیتا ۔
(۱۸۹۹ ، امراؤ جان ادا ، ۱۲۹) ۔
تمہارے دل میں سمائی کیا ہے ، ہیں ہیں یہ کیا کرتے ہو ۔
(۱۹۱۵ ، احمق الذین ، ۵) ۔
اس نے ہیں ہیں کیا تکلف سے
جانکی نے قدم پکڑ ہی لئے
ہیں ہیں کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔
(۱۹۸۹ ، گزارا نہیں ہوتا ، ۲۸۷) ۔
بعد میں یہ نہ کہئے گا کہ بھائی نیاز مند ، ہیں ہیں یہ کیا کیے جا رہے ہو ۔
(۲۰۰۷ ، اخبار اردو ، اسلام آباد ، نومبر ، ۷۲) ۔